| خامُشی سے کوئی اپنا مدّعا کہتا رہا |
| دل مگر ہر بار سن کر ماجرا ہنستا رہا |
| آئینوں سے پوچھتے تھے لوگ میری داستاں |
| میرا چہرہ خود حقیقت کا پتہ دیتا رہا |
| جس نے مٹّی میں اُگائے آس کے برگد ہمیش |
| چلچلاتی دھوپ میں سائے تلے رہتا رہا |
| رنج بھی جب حد سے گزرا تو سکوں دینے لگا |
| تیرگی میں درد اپنے آپ سے چھُپتا رہا |
| جیتنے کی دوڑ میں تھا میں بھی شامِل عمر بھر |
| ہار کر بھی جشن اوروں سا منا لیتا رہا |
| کوئی میرے نام سے سمجھا کِیا تھا مجھ کو اور |
| کوئی لہجے سے مرے کردار کو پڑھتا رہا |
| میں نے خوشبو کی طرح سب بانٹ دی اپنی وفا |
| جو بھی آیا اپنے حصّے کی دعا لیتا رہا |
| ہر تعلق فائدوں کے شور میں گم ہو گیا |
| ایک سادہ سا تبسّم ربط بس رکھتا رہا |
| جس نے اپنے گھر کے دروازے کھلے رکھّے سدا |
| وہ زمانے بھر کے دل میں بھی جگہ کرتا رہا |
| طارق اک حرفِ صداقت جب قلم نے لکھ دیا |
| شعر پھر دل سے نکل کر دل میں جا بستا رہا |
معلومات