مانے جانم تو کر دکھاؤں گا
عشق میں تیرے جان واروں گا
باتیں کچھ آزمانے کی ہوگی
جزبے ہیں یا نہیں میں پرکھوں گا
کوششيں پانے کی رہوں کرتے
ہار تھک کر کبھی نہ بیٹھوں گا
رہتے ناقد رفیق ہی اکثر
خامیوں پر ضرور ٹوکوں گا
فرض ایسے نبھاؤں گا اپنا
آئے تکلیف تو سہاروں گا
جنم دن کیسے بھول پاؤں گا
تحفہ سوغات لے کے آؤں گا
ناز ناصؔر اُٹھاؤں گا سارے
روٹھ جائے صنم، مناؤں گا

0
18