| جتنا تراش جھوٹا صنم ٹوٹ جاۓ گا |
| ظالم ترا ہر ایک بھرم ٹوٹ جاۓ گا |
| پردہ ہٹا دیا ہے سیاہی کے چہرے سے |
| سچ کہہ رہا ہوں اب یہ قلم ٹوٹ جاۓ گا |
| باہم ملاۓ رکھتے ہیں پرچم کے رنگوں کو |
| کیسے ہمارا دستِ علم ٹوٹ جاۓ گا |
| آدھی بتائی باتوں کو سچ مان کے نہ رو |
| کر نے دے سب رقم ترا غم ٹوٹ جاۓ گا |
| شامل ہے رقص میں مری صدیوں کی راگنی |
| پائل نہیں یہ کوئی کہ چھم ٹوٹ جاۓ گا |
| دم بھرتے ہو خدائی کا خنجر کے دم سے جو |
| دم آۓ گا اک ایسا کہ دم ٹوٹ جاۓ گا |
معلومات