اس جہاں کو چھوڑ کر سلمان رخصت ہو گئے
ماسٹر اَصْحَاب کے ارمان رخصت ہو گئے
باپ ماں بھائی بہن اور سب کو نالاں چھوڑ کر
زندگی اور علم و فن کے سارے میداں چھوڑ کر
آہْ پیارے حافظِ قرآن رخصت ہو گئے
بستی کَٹْہَل باری میں ہر کوئی ہے ماتم کناں
مدرسہ دھنسونا پھلواری میں ہے آہ و فغاں
کتنے پیارے با ادب انسان رخصت ہو گئے
ہم دعا گو ہیں، خدا جنت میں دے اعلیٰ مقام
حافظِ قرآن ہے، بخشے خدا اپنے غلام
کہہ رہا ہے ہر کوئی سلطان رخصت ہو گئے
اے منور! صبر کر لے ، ہے یہ رب کا فیصلہ
جس کو چاہے وہ بلالے، ہے یہ اس کا سلسلہ
محفلِ یاراں سے اک مہمان رخصت ہو گئے

0
4