| مدینہ ہے جنت بھلایا نہ جائے |
| فراقِ مدینہ چھپایا نہ جائے |
| یہ روضہ نبی کا یہ جالی سنہری |
| ہے ما فوق، لفظوں میں لایا نہ جائے |
| نہیں اتنے آساں جو دوری کے پل ہیں |
| جو گزری ہے دل پر دکھایا نہ جائے |
| ہے سینے میں روشن چراغِ محبت |
| کبھی پھونک سے جو بجھایا نہ جائے |
| یہ گلیوں میں رونق یہ راہیں فروزاں |
| منور ہیں کیسے بتایا نہ جائے |
| ہیں وللیل زلفیں ضحیٰ چہرہ اُن کا |
| مگر پردہ ایسا ہٹایا نہ جائے |
| خدا نے ہے یکتا بنایا نبی کو |
| نبی کا سوالی رُلایا نہ جائے |
| درِ مصطفیٰ ہے یہ محمود سن لے |
| یہاں پر کسی کو ستایا نہ جائے |
معلومات