| بھروسہ ٹوٹ جائے تو محبت روٹھ جاتی ہے |
| اگر ہو بے یقینی تو مروت روٹھ جاتی ہے |
| کسی کے بھی کبھی جذبات سے مت کھیلنا صاحب |
| وگرنہ باہمی جذبوں کی حدت روٹھ جاتی ہے |
| لڑائی اور جھگڑا بھی تعلق کی نشانی ہے |
| مگر نفرت کی صورت میں یہ لذت روٹھ جاتی ہے |
| اگر انسان ہو کانوں کا کچا عین ممکن ہے |
| بسی رشتوں میں الفت کی وہ شدت روٹھ جاتی ہے |
| توازن زندگی کو جاودانی بخش دیتا ہے |
| ذرا ابہام سے ساری مسرت روٹھ جاتی ہے |
| بہت ہی ہے ضروری فیض یہ اخلاص رشتوں میں |
| نہ ہو اخلاص رشتوں میں تو برکت روٹھ جاتی ہے |
معلومات