وقت کی بے رحم وسعت، رات کی تنہائیاں
کھا گئیں آوازِ آدم، دشت کی پہنائیاں
دفن ہیں کس دشت میں وہ کاروانِ رفتگاں
یاد کے غاروں میں زندہ، موت کی پرچھائیاں
شہر کی اس جگمگاتی، بے مروت بھیڑ میں
کھو گئی ہیں راستوں میں، ذات کی گہرائیاں
اک پرانا پیڑ رستے میں کھڑا ہے آج بھی
جس کے پتوں پر لکھی ہیں، وقت کی انگڑائیاں
کہکشاؤں کے بکھرنے کا تماشا، رائیگاں
گونجتی ہیں اب خِلا میں، زیست کی شہنائیاں
ہم کہ اپنی ذات کے زنداں میں قیدی عمر بھر
مار دیتی ہیں ہمیں تو، بخت کی ہرجائیاں
سو گئے مٹی کی چادر اوڑھ کر فرعون بھی
رو رہی ہیں قبر پہ اب، تخت کی رعنائیاں
اس شعورِ آگہی نے چھین لی ہے خامشی
لے اڑی ہیں چین سارا، ہست کی سودائیاں
چند دن کا خبط تھی بس، وصل کی ہر داستاں
یاد ہیں اب طنز بن کر، مات کی رسوائیاں
راستے تاریک ہیں، بے سمت ہے یہ کارواں
چھین لی ہیں آندھیوں نے، ریت کی بینائیاں
چپ لگی ہے لب پہ، اک پرہول منظر دیکھ کر
چھین لی ہیں کرب نے اب، دست کی گویائیاں
موت کے ہاتھوں برابر ہو گئے ہیں سب یہاں
خاک میں ملنے لگی ہیں، رخت کی یکتائیاں
اس ابد کے بھید میں چپ ہو گئے سب رازداں
اک ذرا سی دیر میں گم، مست کی دانائیاں
کوچہ و بازار میں اک اجنبی خوشبو اڑی
ساتھ اپنے لے کے آئی، پات کی پروائیاں

0
7