ساقی پلائے جا مجھے کوثر کے جام سے
چودہ ہیں مے کَدَے یہاں عِتْرَت کے بام سے
ان مے کدوں کے آخری ساقی کی راہ میں
پلکیں بچھایں بیٹھے ہیں ہم صبح و شام سے
پوچھو نہ حالِ مَے کَشی ہم سے یوں بارہا
پی کر بتاوں گا تمھیں میں بھی ارام سے
ہم منتظِر ہیں اُن کے تو وہ بھی ہے منتظَر
کیا خوب سلسلے بنے آقا غُلام سے
منظر پہ آئے ہو نہیں چرچے ہَزار ہیں
چِلمن حِجاب ہو نہیں عالی مَقام سے
تیرے وجود سے یہ قیامت رُکی ہوئی
ایسے ہے کائِنات یہ قائم امام سے
اِس میں تو کوئی شک نہیں تیری کِتاب میں
اولادِ فاطمہ ہے وہ خَیرُ الْاَنام سے
جس طرح اِبْتِدائے امامت مُبین ہے
ہوگی پھر اِنْتِہا یہاں بیتُ الحَرام سے
رُتْبَہ علی کے خون کا عیسیٰ بتائیں گے
سبطِ نبی کے پیچھے رُکُوع و قیام سے
ہوگا نِظام عدل اور انصاف کا یہاں
قائم کریں گے دین وہ جب احتشام سے
مایوس ہوں نہ تم ابھی ظُلْم و سِتَم سے آج
دنیا میں عدل ہوگا ظہورِ امام سے
فرشِ سنائے آلِ نبی ہے بچھا ہوا
ذکرِ امام کیجئے بہت احْتِرام سے
اِذْنِ امام ہو تو جفا کو مٹا دوں میں
پَرْدے میں ذُوالْفِقار یہ بولی نیام سے
یہ بھی سنا ہے ہم نے کہ منکر امام کے
ہوں گے ہَلاک لاکھوں میں نسلِ حرام سے
ساقی سے جام سے تجھے گویا نہ واسطہ
پھر کون سی ہے فکر یہ تجھ کو کلام سے
تجھ میں بھی شیخ جی وہی عادت خراب ہے
ہر بات کا جواب نہیں شور و تام سے
ظالم حُکومتوں کی نہیں پیروی کرو
کب تک ذلیل ہو گے تم ایسے نِظام سے
جن کے دلوں میں اُلفتِ آلِ نبی بسا
بکتے نہیں ہیں نَفْس وہ کوئی بھی دام سے
باقر کو آئے راحتِ جاں اس جہان میں
جب وہ سنائے حالِ مَوَدَّت تمام سے

0
1