موج میں ہر طرف کہ پانی ہے
ٹوٹی کشتی بھی بادبانی ہے
زندگی شام اک سہانی ہے
کہ ابھی نَشَّۂ جَوانی ہے
ان کے آنے کی تھی خبر لیکن
ہر گھٹا آج پانی پانی ہے
آرزوئیں ہزاروں ہیں لیکن
چار دن کی یہ زندگانی ہے
زخم وہ ہی جو بن گیا ناسور
مے وہی ہے جو بس پرانی ہے
اپنی اپنی ہے داستاں سب کی
سب کی اپنی الگ کہانی ہے
اشک تحریر ہےغمِ دل کی
گفتگو میری بے زبانی ہے
آ کے منزل پہ یہ ہوا معلوم
آج تک صرف خاک چھانی ہے
جان دے دیں گے آستاں پہ ترے
آج پھر دل میں ہم نے ٹھانی ہے
سوچ کر سامنے وہ آۓ مرے
تیغ جس کو بھی آزمانی ہے
زندگی سے ہوئی طلاق تو کیا
موت سے اپنا عقدِ ثانی ہے
ہم بھی چالاک کم کسی سے نہیں
ساری دنیا اگر سیانی ہے

0
2