| یہ ظلم کرکے نہ بھول جانا، خدا کو بھی ہے حساب دینا |
| پکڑ میں رب کی کبھی ہے آنا، خدا کو بھی ہے حساب دینا |
| بڑے بڑے تاجدار گزرے، یہیں پڑے ہیں مزار بن کے |
| ذرا اُنہی سے سبق یہ پانا، خدا کو بھی ہے حساب دینا |
| یہ عیش و عِشرت یہ مال و دولت،یہ شان و شوکت یہ جاہ و حَشمت |
| سبھی فریب نظر فسانہ، خدا کو بھی ہے حساب دینا |
| یہ دنیا مومن کی آزمائش، یہاں فقط غیر کی نُمائش |
| ہمیشہ ہر غم پہ مسکرانا، خدا کو بھی ہے حساب دینا |
| یہ قبر تنہا یہ حشر تنہا، نہ کوئی اپنا نہ کوئی یارا |
| سفر کا قصہ وہیں سنانا، خدا کو بھی ہے حساب دینا |
| حرام لقمے سے پیٹ پالا،غریب کا حق دبا کے کھایا |
| یہ رشوتوں سے محل بنانا، خدا کو بھی ہے حساب دینا |
| قدم اٹھانا سدا مُنَوَّرؔ ، ذرا سنبھل کر خدا سے ڈر کر |
| نہ آخرت کو کبھی بھلانا، خدا کو بھی ہے حساب دینا |
معلومات