لبوں پہ ذکرِ رسالت ﷺ رہے، تو کافی ہے
دلوں میں عشق و محبت رہے، تو کافی ہے
نبی ﷺ کی سنتِ طاہر پہ ہو عمل میرا
نصیب میں یہ سعادت رہے، تو کافی ہے
مدینے والے ﷺ کا دامن نہ چھوٹنے پائے
نبی کی آل سے الفت رہے، تو کافی ہے
نہ تخت چاہیے مجھ کو، نہ تاج کی ہے طلب
حبیبِ رب سے عقیدت رہے، تو کافی ہے
مری نجات کا سامان ہو گیا بے شک
نگاہِ لطف و عنایت رہے تو کافی ہے
عتیقؔ دل میں رہے مدحِ مصطفیٰ کی لگن
زباں پہ نعت کی لذت رہے، تو کافی ہے

0
4