جب جنوں عقل پہ چھائے تو غزل کہتے ہیں
ہوش جب ہوش اڑائے تو غزل کہتے ہیں
اُن کی یادوں کا برستا ہوا ساون بھادوں
آگ تن من میں لگائے تو غزل کہتے ہیں
رات کے پچھلے پہر دل کے نہاں خانے میں
کوئی چُپکے سے جو آئے تو غزل کہتے ہیں
زہر میں ڈوبے ترے لفظوں کی جب تیغ زنی
کاٹ نس نس مری جائے تو غزل کہتے ہیں
سانس کی لَے پہ سسکتی ہوئی سرگم شائم
آٹھواں سُر جو اُٹھائے تو غزل کہتے ہیں

22