اے بشر! کانوں کو اپنی اک امانت جان تو،
ان سے حق کی ہر صدا کو دل سے اب پہچان تو۔
کان میں گونجے اگر "اللہُ اکبر" کی ندا،
سر جھکا سجدے میں اے آدم! اسی میں ہے بقا۔
غیبتوں کی آگ سے کانوں کو تو محفوظ رکھ،
جھوٹ کی سرگوشیوں سے اپنا دامن دور رکھ
ذکرِ حق کی محفلوں سے اپنا رشتہ جوڑ لے،
گانے باجے، ڈھول کی محفل سے دامن موڑ لے۔
حق شناسی کا الٰہی مجھ کو ایسا شر ف دے،
حق سنوں، حق پر چلوں، حق پر مروں، یہ ظرف دے۔
عتیقؔ! ذکرِ مصطفیٰ ﷺ جب کان میں رس گھول دے،
دل کا ہر ذرّہ محبت کا گلستاں کھول دے۔

0
5