سنگ بے نیازی گر درمیاں سے مٹ جائے
آدمی سے انساں کا فاصلہ بھی گھٹ جائے
حرف حرف ہستی کا جوڑدو قَرِینے سے
لفظ سے معانی کا رابطہ نہ کٹ جائے
دل میں اک کشادہ سا روزنِ یقیں رکھنا
ممکنات کا سورج تیرگی سے چھٹ جائے
زیست کے سفر میں کوئی مقام مل جائے
چشمِ آگہی سے گر پردۂ گماں ہٹ جائے

0
7