یہ خیالِ یار ہی میرا فسانہ ہو گیا
ذکرِ جاناں رات دن من کا ترانہ ہو گیا
آن پہنچا جو حزیں بھی گلیوں میں سرکار کی
پھر مدینے میں اسی کا آب و دانہ ہو گیا
عشقِ احمد جان لیں جو زندگی کا راز ہے
جس کو یہ دولت ملی ہے وہ یگانہ ہو گیا
محفلِ کونین میں اب جی نہیں لگتا ذرا
قبلہ اپنا مصطفیٰ کا آستانہ ہو گیا
نامِ احمد سے تسلی ملتی ہے ہر درد کو
مصطفیٰ کی یاد سے گلشن سہانا ہو گیا
مدحتِ سرکار ہے اک نغمۂ کونین و جاں
ان کی الفت سے مرا دل اک خزانہ ہو گیا
مصطفیٰ دلدار ہیں اُس خالقِ مختار کے
مان لے محمود جو سمجھے وہ دانا ہو گیا

0
1