وہ ایک شخص جو خاموش مسکراتا رہا
مرے وجود میں موسم نئے اُگاتا رہا
چراغ بن کے اندھیروں سے جنگ کی اُس نے
ہوا کے سامنے خود کو سپَر بناتا رہا
کسی نے پوچھ لیا عشق کا پتہ تو ہنسا
وہ اپنے زخم کو بھی مِثلِ گُل دکھاتا رہا
وہ کیسے لوگ تھے رستے بدل گئے سارے
کوئی تو تھا جو مرا در بھی کھٹکھٹاتا رہا
نہ تخت چاہا نہ شہرت کی آرزو رکھی
وہ اپنے نام سے پہلے خلوص لاتا رہا
یہ زندگی تو کتابوں سے کم نہیں نکلی
ہر ایک شخص نیا اک سبق پڑھاتا رہا
میں اپنے گھر کی فصیلوں میں قید تھا لیکن
خیال تیرے دریچوں سے آتا جاتا رہا
کسی کے دل میں جگہ مل گئی سبحان اللہ
مکاں سے بڑھ کے بھی اک گھر کہیں سجاتا رہا
وہ طارق ایک محبت کی روشنی لے کر
دلوں کے شہر میں چپ چاپ لو جگاتا رہا

0
10