جانتا ہے کہ تجھے کوئی نہیں جانتا تھا
میری تخلیق سے تیرے یہ خدوخال کھلے
تو نہ ظاہر تھا زمانے میں نہ اوجھل تھا کہیں
اک نظر مجھ پہ پڑی اور پھر احوال کھلے
میں امانت تھا ضمانت سے ہی بچ آیا یہاں
تب کہیں جا کے مری ذات پہ اشکال کھلے
عشق کی رہ ملی اور ذہن کے تالے ٹوٹے
میرے شعروں پہ نئے خواب نئے حال کھلے
پھر یہ منظر تھا کہ شب ٹوٹ کے بکھری قرنی
بجلیاں کڑکیں جونہی اس کے ذرا بال کھلے
محمد اویس قرنی

0
1