نہیں آنکھوں میں یونہی نم ذیادہ
دکھی رکھے گئے ہیں ہم ذیادہ
سبھی کا قد برابر عشق میں ہے
کوئی اس میں نہیں ہے کم، ذیادہ
مری تقدیر میں بھی کم نہیں ہیں
مگر زلفوں میں تیری خم ذیادہ
مرا میں موت جن لوگوں کے ہاتھوں
منائیں گے وہی ماتم ذیادہ
رکھیں اس کو وفاداروں میں کیا ہم
اٹھائے جس نے ہیں پرچم ذیادہ
عطا خوشیاں ہوئیں گاہے بگاہے
مگر سونپے گئے ہیں غم ذیادہ
ہمارے ساتھ جب تم ہم قدم تھے
مزہ دیتے رہے موسم ذیادہ
فقط اک بار درشن ہوں تمہارے
دیا جیون کا ہے مدھم ذیادہ
رشیدؔ ان کی کرم فرمائیاں تھیں
مگر زلفیں رہِیں برہم ذیادہ
رشید حسرتؔ، کوئٹہ
۱۴ اپریل، ۲۰۲۶

0