صحبت میں مربی کے وہ پایا بھی بہت ہے
اب رنگ نکھرنے سے وہ چھایا بھی بہت ہے
پروان چڑھیگی بالیاں تخم سے دھیرے
ِکشتِ زار میں دہقاں نے بویا بھی بہت ہے
موسم سے اٹھائے وہی ہے فائدہ ہر دم
جو لگتا ہو شوقین و رسیا بھی بہت ہے
تخریبی رویہ بھی مذمت کے ہے قابل
کچھ سوچ ہی پر ایسی یہ گھٹیا بھی بہت ہے
رسوائی ہونے سے بڑی خفت ملی اس کو
ناکامیابی پر پھوٹ کے رویا بھی بہت ہے
کس کس کو بتائیں بھی سبب مرض رہا کیا
حالات کی اس مار سے دکھیا بھی بہت ہے
الزام نہیں دینا ہے ناصؔر کسے ہرگز
اپنا ہی مگر سب یہاں کھویا بھی بہت ہے

0
42