پاک سے پاک در ہے تمہارا نبی کوئی ایسا کہیں آستانہ نہیں
سر جھکائیں جہاں انبیا اوصیا دہر میں اس سے بڑھ کر ٹھکانہ نہیں
عہد میرا ہے میرے نبی سے یہی جب بھی آؤں ترے روضۂ پاک پر
چھوٹ جائے اگر ساتھ سارا جہاں آپ کا در مگر چھوڑ جانا نہیں
جب گیا در پہ سرکار کی دید کو مجھ کو رضوان و جبریل آئے نظر
سر پہ سایہ کیے نعت پڑھتے ہوئے یا نبی آپ سے دل ہٹانا نہیں
جن کی اولاد کوثر کی میراث ہے جن کے حسنین جنت کے سردار ہیں
شان ایسی مبارک تمہیں یا نبی آپ کی آل جیسا گھرانہ نہیں
ایک بستی جو یثرب میں آباد تھی جس سے ہر دور کا دل منور ہوا
جس میں سلمان و مقداد تھے با وفا اس زمانے سا کوئی زمانہ نہیں
دل مرا اک حرم ہے محبت بھرا جس میں روشن ہے بس نامِ لولاک ہی
یہ دریچہ ہوا مصطفٰی کا مرے اب کسی کو بھی دل میں بسانا نہیں
سانس رک جائے گی موت مر جائے گی  پھر بھی آواز دل سے یہی آئے گی
اے مخالف ہوا حوصلہ ہے مرا منزلِ عشق میں آزمانہ نہیں
یہ فضائے معطر یہ دلکش سماں لا الٰہ الا اللہ سے مہکی اذاں
کہہ دیا شیخ سے میں نے ساگر یہی سر کو سجدے سے اب تو اٹھانا نہیں

0
3