| چل پڑے ہیں روشنی کے قافلے |
| دل میں لے کر پیار کے جلتے دیے |
| راستے چاہے اندھیروں سے بھرے ہوں |
| حوصلے پھر بھی ہمارے جاگتے ہوں |
| اک صدا امید کی آتی رہے |
| دل میں لے کر پیار کے جلتے دیے |
| سر جھکائے ہم وفا کی راہ پر چلتے رہیں |
| خُلد کے خوابوں کو دل میں ہم سجاتے ہی رہیں |
| اک دعا لب پر ہمیشہ یہ رہے |
| دل میں لے کر پیار کے جلتے دیے |
| خلافت کی صدا ہے دل میں اُتری |
| ہے پیاسی رُوحوں میں برسات برسی |
| خوف کے بادل بھی چھٹتے ہی گئے |
| دل میں لے کر پیار کے جلتے دیے |
| ہم نے ہر طوفاں میں ساتھ اُس کا دیا |
| ہر کڑے لمحے میں وہ روشن دیا |
| قافلے کے حوصلوں بڑھتے گئے |
| دل میں لے کر پیار کے جلتے دیے |
| پیار، اخلاص و وفا کا یہ سفر جاری رہے |
| ربّ کی رحمت کا سدا ہم پر اثر طاری رہے |
| دل محبت سے ہمیشہ ہی بھریں |
| دل میں لے کر پیار کے جلتے دیے |
| جب خلافت کی صدا پر کہہ دیا لبّیک ہے |
| زندگی نورِ اطاعت سے منوّر ہو گئی |
| دُور سب اندیشے ہوتے ہی گئے |
| دل میں لے کر پیار کے جلتے دیے |
معلومات