لمحہ لمحہ سنبھال رکھتا ہوں
قید وقتِ وِصال رکھتا ہوں
یاد سانسوں سے جوڑ لیتا ہوں
اِس ہُنر میں کمال رکھتا ہوں
اُس کی یادوں میں "حال" آتا ہے
دل میں جاری دھمال رکھتا ہوں
ذکرِ اسمِ خُدا کی برکت سے
دل کی دھڑکن بحال رکھتا ہوں
جب وہ آتے ہیں دل کے آنگن میں
دل سے دُنیا نکال رکھتا ہوں
اُن کی تصویر ہے تَصور میں
رنگِ حُسنِ خیال رکھتا ہوں
مُجھ کو دَرپن بنا رہے ہیں وہ
یعنی میں بھی جمال رکھتا ہوں
خُود کو دیکھا خُودی کے شیشے میں
آپ اپنی مثال رکھتا ہوں
ایسی فطرت بھی کس نے پائی ہے
کھوٹ مَن کا سنبھال رکھتا ہوں
ایک جُھوٹے صنم کی خواہش میں
اپنے رَب سے مَلال رکھتا ہوں
فانی ہونے کی یہ نشانی ہے
عروج میں بھی زوال رکھتا ہوں
مُجھ کو کھٹکا نہیں اندھیروں سے
چراغِ نُورِ جلال رکھتا ہوں
تیرا ناتا خُدا سے کیسا ہے
خُود کے آگے سوال رکھتا ہوں
بے قراری رہے گی جنت میں
نقدِ جاں میں اُبال رکھتا ہوں
میں غُلامِ غُلام ہوں اُنؐ کا
سر پہ نَعلِ بلالؓ رکھتا ہوں

0
16