اک خبر منٹوں میں بے پردہ ہوئی
کتنی چھوٹی آج کی دنیا ہوئی
تیرگیٔ شب سے یوں نا گھبرایے
تیرگی سے روشنی پیدا ہوئی
عشقِ ابراہیم سے ہر دور میں
آتشِ نمرود شرمندہ ہوئی
ہے کرم یہ موسمی برسات کا
خشک ندی ہمسرِ دریا ہوئی
ڈھونڈتا ہوں وقت کے سیلاب میں
میرے حصّے کی زمیں کیا ہوئی
آگ سے کب آگ بجھتی ہے جناب
دشمنی سے دشمنی پیدا ہوئی

2