بنا ہے چاکِ ہستی پر عجب نقشِ فنا مٹی
وہی زنداں کی رونق ہے، وہی ہے کیمیا مٹی
​صراحی رو رہی ہے اب کسی درویش کی خاطر
کہ پیاسا مر گیا صحرا میں دے کر خوں بہا مٹی
​غمِ دوراں کی تلخی میں گھڑے کا آبِ خنک ڈھونڈو
ہمیں تو راس آئی ہے بہ رنگِ التجا مٹی
​کدھر وہ لمسِ دستِ یار، وہ سوندھی سی اک خوشبو؟
ہوئی ہے شہر کے آہن میں اب تو بے صدا مٹی
وہ جس مشکیزے سے فیضِ کرم تقسیم ہوتا تھا
ہوئی ہے اب تو اس سقّے کے ہاتھوں سے رہا مٹی
​کبھی ہم بھی تھے اک کوزہ، کسی کے ہاتھ کا ساغر
بکھر کر رہ گئی اب تو غبارِ نقشِ پا مٹی

3