| دیکھو گلاب تازہ پہ اس واردات سے |
| گلدستہ گر نہ جائے کہیں گل کے ہاتھ سے |
| اس کا تو اس کی خوشبو سے معلوم ہو گیا |
| اپنا مقام بوجھ لیا زرد پات سے |
| یہ کوئی جانتا نہیں جاتی ہے کس طرف |
| سب جانتے ہیں بات نکلتی ہے بات سے |
| قسمت نے ایسے وقت مجھے فتح بخش دی |
| جب ہورہی تھی میری شناسائی مات سے |
| استاد اس سے بڑھ کے نہیں کوئی دوسرا |
| میں نے سبق لیا ہے زمانے کی ذات سے |
| آیا اترتی شام نظر آخرش مجھے |
| میں جس کے انتظار میں تھا صبح سات سے |
| دن کا اجالا قدر سے واقف نہیں مری |
| پوچھو قمرؔ کی شان اماوس کی رات سے |
| قمرآسیؔ |
معلومات