شمار کرتا ہے اب تک عدو تو زیروں میں
خدایا ! دیر ہے کتنی ابھی سویروں میں!
وہ بد نصیب ہیں جو روشنی سے ڈرتے ہیں
چراغ ڈھونڈتے پھرتے ہیں سب اندھیروں میں
وہ ایک شخص جو تنہا کھڑا تھا سچ کے لیے
شمار ہوتا ہے ہر پل خدا کے شیروں میں
ہمِیں نے وقت کی زنجیر توڑنا سیکھا
وہ لوگ قید ہیں اب تک انہی بسیروں میں
کسی کے ہاتھ میں دنیا، کسی کے ہاتھ میں دل
تمام لوگ ہیں مصروف ان کے پھیروں میں
سکھایا خاک نے اپنی ، محبّتیں کرنا
تو کس نے بانٹ دیے سانپ پھر سپیروں میں
چراغِ دل کو ذرا دیر آندھیوں سے بچا
کہ رات چھوڑ نہ جائے کہیں اندھیروں میں
اداس شب ہے اماوس کی دیر سے طارقؔ
اب آنے والی ہے پونم ہمارے ڈیروں میں

0
8