مزاج نرم رہا بد حواس ہو کر بھی
وہ پرسکون تھا کتنا اداس ہو کر بھی
تھے شر پسندی کے منصوبہ سارے ہی لیکن
نگر پہ طاری رہا سکتہ یاس ہو کر بھی
بے اعتنائی ہو پہنچی عروج کے درجہ
نگاہیں پھیر لیں تب حق شناس ہو کر بھی
غمِ فراق میں بے ساختہ زباں بولے
گُزر کٹھن ہے بہت دل میں آس ہو کر بھی
شعور جاگے اگر باشعور لوگوں میں
رہیگا امن ہی خوف و ہراس ہو کر بھی
ہے کم نصیبی کہ محروم علم سے ہوں ہم
سبیل اور وسائل یہ پاس ہو کر بھی
اصولوں کا اسے پابند ہی سمجھ ناصؔر
خلوص برتے جو اندر بھڑاس ہو کر بھی

0
32