| میں حُسنِ ملاحت پہ قُربان جاؤں |
| میں نُوری شباہت پہ قُربان جاؤں |
| صَدا آ رہی ہے مُبارک مُبارک |
| میں یومِ ولادت پہ قُربان جاؤں |
| اُنہیںؐ جس نے دیکھا، حقیقت کو دیکھا |
| میں نُورِ حقیقتؐ پہ قُربان جاؤں |
| تھا " قَالُوْ بَلٰی" بھی اُنہیؐ کا ترانہ |
| اَمینِ نیابتؐ پہ قُربان جاؤں |
| وہؐ معصوم ہو کر بھی سجدے میں رہتے |
| میں ذوقِ عبادت پہ قُربان جاؤں |
| تبسم تھا اُنؐ کا مُعطر مُنور |
| میں نازِ متانت پہ قُربان جاؤں |
| رَسولِؐ مَلاحِم سے لرزاں تھے دشمن |
| میں رُعبِ رسالت پہ قُربان جاؤں |
| کئی سنگ دل بھی تلاوت سے پگھلے |
| میں سوزِ تلاوت پہ قُربان جاؤں |
| سَبھی مقتدی درجہ "احسان" پر تھے |
| میں رُوحِ امامت پہ قُربان جاؤں |
| لیے جا رہے ہیں وہؐ قُربِ خدا میں |
| میں سالارِ اُلفتؐ پہ قُربان جاؤں |
| یہ علمِ لَدُن، فیضِ اُمّی لَقبؐ ہے |
| میں فیضِ ولایت پہ قُربان جاؤں |
| پلایا مُجھے جام خواجہؒ کے ہاتھوں |
| میں جامِ عنایت پہ قُربان جاؤں |
| مُجھے دے رہے ہیں وہ دائم غلامی |
| میں آقاؐ کی رحمت پہ قُربان جاؤں |
| سُنو! مُجھ سا عاصی بھی بخشا گیا ہے |
| میں اُنؐ کی شفاعت پہ قُربان جاؤں |
معلومات