| رُخ پہ یوں اپنی زلفیں سنوارا کرو |
| تم نظر کی بلائیں اتارا کرو |
| چاند شرما گیا ہے تجھے دیکھ کر |
| روپ اتنا نہ اپنا نکھارا کرو |
| اوڑھ کر تم ردائے محبت کبھی |
| میرے جذبات کو نہ ابھارا کرو |
| دل کی دنیا میں طوفاں جو آنے لگے |
| اتنی چاہت سے مجھ کو پکارا کرو |
| جان کر دیں گے تجھ پر نچھاور صنم |
| بس زرا سا جو تم اک اشارا کرو |
| کچھ دلِ ناتواں کا بھی سوچا کرو |
| وادیِ عشق سے جب گزارا کرو |
| آسمانوں میں ہر پل چمکتا رہے |
| شادؔ کی زندگی کا ستارا کرو |
معلومات