| اک راز کی امیں یہ لولاک کی صدا ہے |
| آواز تھی یہ جس کو سرکار دلربا ہے |
| یہ نورِ کبریا پھر مبدأ بنا خلق کا |
| یوں کارواں جہاں کا مختار سے چلا ہے |
| ادراک سے ورا جو مخفی جہاں ہیں سارے |
| اُن کا ہے جو تصور وہ آپ سے ملا ہے |
| سدرہ حدود ٹھہری دارِ زماں مکاں کی |
| جس حد سے آگے میرا دلدار ہی گیا ہے |
| یہ لامکاں سے ہو کر قوسین میں کھڑے تھے |
| النجم دیکھیں قصہ قرآن میں لکھا ہے |
| تبدیل جس سے طالع سارے جہان کے ہیں |
| فیضانِ مصطفیٰ سے یہ خیر کی ہوا ہے |
| طاغوت کو گراتی ظلمت کو بھی مٹاتی |
| پیغام ساتھ لائی بطحا سے جو چلا ہے |
| تاباں فضا کرے یہ ہر سو کرے اُجالا |
| جو دان کبریا ہے سرکار کی عطا ہے |
| ذاتِ نبی اے مومن کامل ہے ڈھال تیری |
| ہادی سے کل بھی ملنا محشر میں آسرا ہے |
| عشقِ نبی جہاں میں ہے راس زندگی کی |
| جس میں سدا بقا ہے جس میں بڑا بھلا ہے |
| معراج مومنوں کی خمسہ صلوٰۃ میں ہے |
| کیا فیض کبریا نے ملت پہ کر دیا ہے |
| آیا صلوٰۃ تحفہ محمود امتی کو |
| روشن دلوں کو کرتی یہ آنکھ کی ضیا ہے |
معلومات