| دیکھ مت کاسہ، میری حاجت دیکھ |
| منفی منظر کو آج مثبت دیکھ |
| تو مری سمت مت نگاہ اٹھا |
| یا کسی اور کی طرف مت دیکھ |
| مجھ سے نظریں ملا اور آنکھوں میں |
| جلنے والوں کے دل کی حالت دیکھ |
| جامِ وحشت سے بچ، جہاں تک ہو |
| نشہ آور ہے اس کی لذت، دیکھ |
| بخل مت کر دمِ وصال اے دوست |
| دیکھ محنت مری اور اجرت دیکھ |
| آج کی رات وقت ہاتھ میں ہے |
| پھر ملے کب نجانے فرصت دیکھ |
| لوگ ڈرتے ہیں اس کے نام سے بھی |
| پیار کی کس قدر ہے دہشت دیکھ |
| حجلۂِ فہم سے نکل مہ رو |
| دیکھنے تجھ کو آئی خلقت دیکھ |
| اے اداسی پہ نکتہ چیں آسیؔ |
| ہو گئی اب تجھے بھی عادت دیکھ |
| قمرآسیؔ |
معلومات