محبت میں ہیں امتحاں کیسے کیسے
بدلتے ہیں اب مِہر و باں کیسے کیسے
ابھی کل تلک جو ملے تھے خوشی سے
ہوئے آج وہ بد گماں کیسے کیسے
قفس کے در و بام رونے لگے ہیں
سنائے ہیں ہم نے بیاں کیسے کیسے
بہاروں کے آتے ہی گلشن میں دیکھو
چہکنے لگے نغمہ خواں کیسے کیسے
تری یاد کے جب دیے جل اٹھے ہیں
تو روشن ہوئے ہیں جہاں کیسے کیسے
جہاں میں کسی کا ٹھکانہ نہیں ہے
گئے چھوڑ کر سب مکاں کیسے کیسے
تری ایک ابرو کی جنبش کے صدقے
ہوئے زیرِ تیغِ رواں کیسے کیسے
تپاکِ غمِ عشق نے جلا کر جو
رکھے راکھ میں کارواں کیسے کیسے
جہاں سے وہ گزرے ہیں عادلؔ نہ پوچھو
کھلے پھول ہیں ارغواں کیسے کیسے

0
1