| چلو دل کی بستی بسا کر تو دیکھو |
| کبھی رسمِ الفت نبھا کر تو دیکھو |
| گھٹا غم کی چھائی ہوئی ہے دلوں پر |
| ذرا شمعِ چاہت جلا کر تو دیکھو |
| ہوائیں ہیں نفرت کی چلتی ہر اک سو |
| گھروں کو وفا سے سجا کر تو دیکھو |
| یہ دنیا تو پتھر کی صورت کھڑی ہے |
| اسے گیت کوئی سنا کر تو دیکھو |
| تمہیں مل ہی جائے گی منزل یقیں ہے |
| درِ یار پر سر جھکا کر تو دیکھو |
| ملے گا تمہیں بھی سکونِ مسلسل |
| انا کو ذرا تم مٹا کر تو دیکھو |
| بہت شادؔ تنہا رہے ہو جہاں میں |
| کسی کو گلے سے لگا کر تو دیکھو |
معلومات