یہ جو نفس میں کشمکش جاری ہے
اِسی میں تو انساں کی بیداری ہے
انا کو جلا کر جو روشن ہوا
حقیقت اُسی نور میں ساری ہے
اگر حق پہ ہو تو ذرا کھل کے بول
ترا لہجہ کیوں اتنا درباری ہے
میں تجھ سے تو اِک دن نِپٹ ہی لوں گا
ابھی جنگ خود سے مری جاری ہے
نہ اندر سکوں ہے نہ باہر سکوں
یہ کیسی خلش قلب پر بھاری ہے
کبھی دھوپ میں بھی سکوں مل گیا
کبھی سایۂ شب میں بیزاری ہے
غمِ زندگی ہاتھ تُو ہلکا رکھ
مجھے پہلے سے دل کی بیماری ہے

0
2