وہ اخبار میں جو خبر دیکھتے ہیں
ہم ان پر اسی کا اثر دیکھتے ہیں
سیاست نے میرا وطن لوٹ کھایا
بقایا کو بھی بد نظر دیکھتے ہیں
گھماتے ہیں آنکھیں وہ چشمے کے پیچھے
کدھر دیکھنا ہو کدھر دیکھتے ہیں
لٹیرے ہیں ایوان میں آ کے بیٹھے
یہ رہزن ہمیں راہ پر دیکھتے ہیں
یہ آواز حق کی دباتے ہیں، تو ہم
اکٹھے کبھی بول کر دیکھتے ہیں
بہت آزمایا ہے ان ظالموں کو
نیا اب کے ہم راہبر دیکھتے ہیں

0
2