سوچتے ڈھل رہی ہے غم کی شب
ڈھونڈنے دن چلی ہے ، غم کی شب
رات کے بھیگتے سے لمحوں میں
بام پر پھر سجی ہے غم کی شب
بند کی تھک کے میں نے جب آنکھیں
پلکوں میں آ بسی ہے غم کی شب
آرزو میں کسی کے رستے پر
منتظر سی رکی ہے غم کی شب
قسمتیں وہ بھی بدل لے اپنی
آج پھر سوچتی ہے غم کی شب
نکلے صبحوں کے اجالوں میں وہ
شب کو یوں کوستی ہے غم کی شب
یار کی آس لئے پھرتی ہے
میری آوارگی ہے غم کی شب
بزم ساقی میں سبب الفت کا
اک وجہ دوستی ہے غم کی شب
بھول کے کل کی صعوبتیں شاہد
غم نیا دیکھتی ہے غم کی شب

0
3