دل کرتا ہے چاک گریباں کر لوں
مدعا کو اب ادائے زباں کر لوں
سجاتے ہوئے داغوں کو سینے میں
ہر ایک نقش کو بھی آویزاں کر لوں
خواہش ہے کہ وصال یار ہو جائیں
دید سے انکے دکھ کا درماں کر لوں
یقیں تو ہے وعدہ پر بے شک و شبہ
پھر کیوں خود کو پریشاں کر لوں
رہتا ہے مزہ منفرد تڑپنے میں بھی
انتظار کے لئے تھوڑا ساماں کر لوں
یاد تو بہت ستاتی ہے ہجر میں ناصر
تنہائی میں پر صبر کا امتحاں کر لوں

32