حزیں دل ہے مولا اسے شاد کر دے
مجھے فکرِ فردا سے آزاد کر دے
غلامی میں چاہوں نبی مصطفیٰ کی
یہ دل عشقِ احمد سے آباد کر دے
ہوں عترت نبی پر فدا جان و دل سے
محبت نبی اس کی بنیاد کر دے
خدایا مدینہ دلی آرزو ہے
تو مولا ہے فدوی کی امداد کر دے
سجی کیسی کیسی مدینے کی راہیں
کہے دل حزیں کا تو فریاد کر دے
مدینہ ہے تاباں جمالِ نبی سے
مدینے میں سائل کو آباد کر دے
یہ محمود مانگو عطا مصطفیٰ سے
خدا اُن کی خاطر بڑی داد کر دے

1
11
جامع خلاصہ
یہ نعت ایک عاجز بندے کی بارگاہِ الٰہی میں دعا اور حضور نبیِ کریم ﷺ سے والہانہ محبت کا خوبصورت اظہار ہے۔ شاعر اپنے حزیں اور بے قرار دل کے لیے اللہ تعالیٰ سے خوشی، اطمینان اور فکرِ فردا سے نجات طلب کرتا ہے، اور آرزو کرتا ہے کہ اس کا دل عشقِ احمد ﷺ اور غلامیِ مصطفیٰ ﷺ سے ہمیشہ آباد رہے۔

نعت میں عترتِ نبوی ﷺ سے محبت و عقیدت کو ایمان و محبت کی بنیاد قرار دیا گیا ہے۔ شاعر کی سب سے بڑی دلی آرزو مدینہ منورہ کی حاضری ہے؛ وہ اللہ تعالیٰ سے التجا کرتا ہے کہ اسے مدینے کی زیارت، وہاں قیام اور بارگاہِ رسول ﷺ سے وابستگی کی سعادت نصیب فرمائے۔ مدینے کی روشن و سجی ہوئی راہوں کا ذکر اس کے شوقِ حاضری اور قلبی فریاد کو مزید گہرا کرتا ہے۔

شاعر مدینہ منورہ کو جمالِ مصطفیٰ ﷺ سے تاباں و روشن تصور کرتا ہے اور دعا کرتا ہے کہ اسے مدینے میں آباد ہونے، سائل بن کر درِ کرم سے وابستہ رہنے اور روحانی سکون پانے کی سعادت حاصل ہو۔ اختتامیہ میں شاعر اپنے تخلص محمود کے ذریعے خود کو نصیحت کرتا ہے کہ عطا اور فضل کی طلب حضور ﷺ کی محبت و نسبت کے وسیلے سے کرے، اور اللہ تعالیٰ سے حضور ﷺ کی خاطر اپنے بندے پر رحمت، کرم اور بڑی داد کی التجا کرے۔

مرکزی موضوعات: عشقِ رسول ﷺ، غلامیِ مصطفیٰ ﷺ، محبتِ عترت، مدینہ منورہ کی آرزو، درود و نسبتِ نبوی ﷺ، قلبی سکون، اور اللہ تعالیٰ سے رحمت و عطا کی دعا۔

0