| نقشِ پا جب کہیں ٹھہرے تو خبر ہوتی ہے |
| کیا کبھی زندگی ایسے بھی بسر ہوتی ہے |
| ہم نے آواز کو دیوار نہیں ہونے دیا |
| یعنی چُپ بھی تو تکلّم کا ہنر ہوتی ہے |
| ایک کھڑکی جو کھلا کرتی ہے باطن کی طرف |
| اُس دریچے پہ ہمہ وقت نظر ہوتی ہے |
| گھر سے نکلے تھے کہ منزل کا کبھی ہوگا حصول |
| زیست ساری ہی مسافر کا سفر ہوتی ہے |
| دھوپ جھلسا بھی دیا کرتی ہے چہرے لیکن |
| دل پہ برسے تو وہی دھوپ سحر ہوتی ہے |
| ایک خوشبو ہے جو رہتی نہیں اشیا میں سدا |
| جس کو چھو لے وہی مٹی بھی گہر ہوتی ہے |
| عمر بھر جس کو زمانے نے بھلانا چاہا |
| ایک دن موت وہی پیشِ نظر ہوتی ہے |
| طارِق آواز نہ دے ماضی کی تنہائی کو |
| بات یادوں میں چھپی تلخ اگر ہوتی ہے |
معلومات