اللہ کے سوا ان کا مسبب تو نہیں ہے
مسلم کے سوا کوئی بھی اقرب تو نہیں ہے
ہر طرح بڑے، قوموں میں، اصحابِ محمد ﷺ
ان اُمِّیوں کا، بر زمیں، مکتب تو نہیں ہے
ایثارِ صِحابہ ہیں، ترے واسطے، قصّے
یہ عشق ہے، واعظ کوئی کرتب تو نہیں ہے
قرآن دیا صرف عطا کرنے ہدایت
آیات میں کچھ غرض یا مطلب تو نہیں ہے
اسلام جہاں بھر میں ہوا جاتا ہے پستہ
دیکھ اس کے قمر پر لگا عقرب تو نہیں ہے
مسلم سے دلیروں پہ جو آکاش پھٹا ہے
گردش میں فلک پر کوئی کوکَب تو نہیں ہے
واعظ جو بتا دیتا ہے مسلم کو بھی کافر
اس کی زباں پہ کافروں کا لب تو نہیں ہے
ملّا ہے پڑا حُلیُوں کے پیچھے ہے تعجّب
اسلامِ خدا دین ہے مذہب تو نہیں ہے
واعظ کو ذکیؔ دوگے ہدایت تو کہے گا
یہ فکر تری ہے، ترا منصب تو نہیں ہے

3