| جہاں پر شمع جلتی ہے تو پروانے بھی آتے ہیں |
| وہاں دیوانے لے کر دل کے نذ رانے بھی آتے ہیں |
| محبت صرف ملنے کا کوئی وعدہ نہیں ہوتی |
| اسے سمجھو تو لکھنے جلد افسانے بھی آتے ہیں |
| جو اپنے آپ سے لڑ کر اندھیروں سے نکلتا ہے |
| اسی کے ساتھ روشن عقل فرزانے بھی آتے ہیں |
| کسی محروم دل کو جب محبت رونقیں بخشے |
| وہاں پھر خواب خوشبو رنگ بہکانے بھی آتے ہیں |
| ہمیں ہر شخص چہرے سے شناسا لگ نہیں سکتا |
| کبھی پردے میں دھوکہ باز بیگانے بھی آتے ہیں |
| یہ دنیا صرف داناؤں کا مسکن ہو نہیں سکتی |
| یہاں سچ ہے نشّہ جن کا وہ مستانے بھی آتے ہیں |
| جو پتھر دل زمانے سے وفا کی بھیک مانگیں گے |
| وفا کی چھاؤں میں کچھ پل وہ سستانے بھی آتے ہیں |
| خودی کی حد سے آگے جب قدم رکھتا ہے اک انساں |
| تو پھر رستے میں کچھ ان دیکھے پیمانے بھی آتے ہیں |
| نہیں ہے عشق میں طارِق فقط محبوب کا ملنا |
| کٹھن یہ راستہ چلنے سے یارانے بھی آتے ہیں |
معلومات