سانحہ اپنی تباہی کا نہیں ایسا عجیب
غیر کو اپنا سمجھنا تھا مرا اپنا نصیب
مجھ سے ملتا بھی ہے گرچہ ہے خفا مجھ سے بہت
دوستوں سے بھی  زیادہ  میرا  ہمدم ہے رقیب
میرے ارماں میری طاقت میری ہمت ہیں وہی
دور ہو کر بھی جو رہتے ہیں سدا دل کے قریب
سب کو اندازہ ہے مہلک ہے بہت دل کا مرض
کس لیے لب بستہ و افسردہ ہیں سارے طبیب
بے اثر ہیں جو دوائیں تو پکاروں گا انہیں
مجھ کو ٹھکراتی نہیں چشمِ شفا بخشِ حبیب
بن گئے اونچے محل گم ہوگئے اپنے مکاں
شہر اپنا تھا  حوادث سے بنا شہرِ غریب

0
6