| جن کی چاہت کی تھی میں نے دین و ایماں کی طرح |
| مجھ سے پیش آئے وہی انسان شیطاں کی طرح |
| ان سے بھی کرنا پڑا مجھ کو کنارہ ایک دن |
| جو مرے ہم راہ رہتے تھے دل و جاں کی طرح |
| پاس ہیں سنتے ہیں لیکن فائدہ کچھ بھی نہیں |
| آج کل رشتے ہوے ہیں جسمِ بے جاں کی طرح |
| کیا بتاؤں تجھ کو احوالِ غمِ فکرِ معاش |
| اپنے ہی گھر آتا ہوں میں، ایک مہماں کی طرح |
| شاہؔد ایسے آدمی کی زندگی ہے کامیاب |
| جس نے خِدْمَت کو ہے جانا جزوِ ایماں کی طرح |
| اپنے سینے میں تجھے رکھا دل و جاں کی طرح |
| تیری الفت کو ہے جانا جزوِ ایماں کی طرح |
| وہ چلا جاتا ہے شاہد مجھ کو کر کے پائمال |
| اور اڑا جاتا ہوں میں گردِ بیاباں کی طرح |
| شاہد ایسی زندگی کو زندگی کہہ سکتے ہیں |
| زندگی ہو خاک روبِ کوچہِ جاناں کی طرح |
معلومات