الہ مصطفیٰ کا خدائے نبی ہے
یہ خلقِ خدا سب برائے نبی ہے
کروں یادِ اُن کی میں شام و سویرے
رہا دل سدا ہی فدائے نبی ہے
خدا جانے درجے سخی مصطفیٰ کے
کہ نغمہ جہاں کا ثنائے نبی ہے
خبر دی ہے خالق نے لولاک کہہ کر
کہ محور خلق کا ضیائے نبی ہے
چمن میں خزاں کی حکومت تھی ہر جا
بہاروں میں یہ رُت عطائے نبی ہے
غلامی نبی کی ہے شاہی سے اعلیٰ
غنی اس جہاں کا گدائے نبی ہے
اے محمود! اس کی سدا زندگی ہے
جو کشتہ ہوا دل، برائے نبی ہے

0
3