اتنا نہ ستا عشق میں بیمار ہیں ہم لوگ
غم دل میں چھپا رکھے ہیں غم خوار ہیں ہم لوگ
سر تن سے جدا کردو نہ ہم سر کو جھکائیں گے
باطل کے لئے صورتِ دیوار ہیں ہم لوگ
کیوں فتویٰ لگا دیتے ہو غداری کا سرِ راہ
دل جاں سے مری جان وفادار ہیں ہم لوگ
نظروں کو جما رکھا ہے مدت سے تری سَمت
آ شام و سحر دیکھ کہ بیزار ہیں ہم لوگ
اس قیدِ مسلسل سے رہا کون کرے گا
اک عشقِ ہلاہل میں گرفتار ہیں ہم لوگ

0
3