ضرور اُن کے مقا بل آندھیاں رکھ دی گئی ہوں گی
بھنور کی گود میں جو کشتیاں رکھ دی گئی ہوں گی
سمجھ کر جن کو منزل کا نشاں سب چل پڑے ہوں گے
سجا کر راہ میں گمراہیاں رکھ دی گئی ہوں گی
سمندرسے کہیں شعلوں کے فوّارے اُبلتے ہیں
دبا کر آب میں چنگاریاں رکھ دی گئی ہوں گی
ذرا سی بات پر ہرگز نہ اتنا تلملاتا وہ
یقینا دکھتی رگ پر انگلیاں رکھ دی گئی ہوں گی
کب اتنی بھیڑ ہوتی چاکِ دامن کی نمائش میں
مرے دامن کی بھی کچھ دھجیاں رکھ دی گئی ہوں گی
ابھی تو اور چلنا تھا اُسے وہ منزلوں چلتا
مگر قدموں تلے مجبوریاں رکھ دی گئی ہوں گی
اُجالا اِس قدر کیوں آج شاعر گلستاں میں ہے
کسی شاخِ شجر پر بجلیاں رکھ دی گئی ہوں گی

0
1