| رقیہ… |
| ابنِ انشاء نے سچ ہی تو کہا تھا— |
| *دیوانوں کی سی بات نہ کرے تو اور کرے دیوانہ کیا* |
| سو میں نے بھی دیوانگی اختیار کی، |
| مگر شور کی نہیں، |
| خاموشی کی۔ |
| میں نے تمہارا نام |
| ہوا میں نہیں لکھا، |
| دل کی دیوار پر کندہ کیا ہے۔ |
| میں نے تمہیں پکارا نہیں، |
| میں نے تمہیں جیا ہے۔ |
| لوگ کہتے ہیں |
| عشق اعتدال مانگتا ہے، |
| میں کہتا ہوں |
| عشق اگر اعتدال میں رہے |
| تو خواہش رہ جاتا ہے، |
| دیوانگی نہیں بنتا۔ |
| رقیہ… |
| میں نے چاند سے بات کی |
| تو اس نے تمہارا حال پوچھا، |
| میں نے رات کو اوڑھا |
| تو وہ تمہاری خوشبو سے بھیگی ہوئی تھی۔ |
| میں نے خود سے کہا |
| بھول جاؤ— |
| مگر دل نے ہنس کر جواب دیا |
| دیوانے، |
| دیوانے بھولتے نہیں، |
| بس جلتے رہتے ہیں۔ |
| دیوانہ کیا کرے؟ |
| وہ نام لیتا ہے |
| تو سانس کانپتی ہے۔ |
| وہ آنکھ بند کرتا ہے |
| تو چہرہ روشن ہو جاتا ہے۔ |
| وہ دور رہتا ہے |
| مگر دل قریب تر ہو جاتا ہے۔ |
| میں نے تمہارے نہ ہونے کو |
| اپنی زندگی کا سب سے بڑا ہونا بنا لیا ہے۔ |
| یہ دیوانگی نہیں تو اور کیا ہے؟ |
| رقیہ… |
| میں تمہیں مجبور نہیں کرتا، |
| مگر اتنا ضرور کہوں گا— |
| اگر کبھی تم نے |
| کسی کی آنکھ میں |
| اپنا نام جلتا ہوا دیکھا، |
| اگر کبھی تم نے |
| کسی کی دعا میں |
| اپنی ذات کو پگھلتا ہوا پایا، |
| اگر کبھی تم نے |
| کسی کے صبر کو |
| اپنے انتظار میں بدلتے دیکھا— |
| تو ٹھہر جانا۔ |
| کیونکہ دیوانہ |
| اپنی محبت کا ثبوت نہیں دیتا، |
| وہ اپنی محبت میں ثابت رہتا ہے۔ |
| اور میں… |
| میں اب بھی وہی ہوں |
| جو ابنِ انشاء کے مصرعے کو |
| اپنی قسمت سمجھ بیٹھا ہے۔ |
| *دیوانوں کی سی بات نہ کرے تو اور کرے دیوانہ کیا* |
| سو میں دیوانگی کر رہا ہوں— |
| تمہیں چاہ کر، |
| تمہیں مان کر، |
| تمہیں دعا میں رکھ کر۔ |
| اگر یہ گناہ ہے |
| تو میں اس گناہ کا قیدی خوش ہوں۔ |
| اور اگر یہ عشق ہے— |
| تو رقیہ، |
| یہ عشق تمہارے نام |
| ہمیشہ زندہ رہے گا۔ |
معلومات