یہ جمود کیوں ہے یہاں پہ چھایا ہوا یہی تو سوال ہے
نہ عروج جیسا عروج ہے، نہ زوال جیسا زوال ہے
جو زمین کا ہے سِیارہ وہ نہیں اب تلک بھی سنور سکا
چلے کوسوں دور ہیں دوڑے چاند پہ بسنے، واہ کمال ہے
کبھی غم کبھی ہو مصیبتیں، یہ وبا یہ دل کی پھٹن بھی کچھ
جو شروع ہے لگے جیسے کوئی گناہوں کا ہی وبال ہے
بے بسی عیاں ہے ہماری موت و حیات میں بھی ہمیشہ ہی
نہ ترا ہے کچھ نہ مرا ہے کچھ، یہ تو سب اسی کی منال ہے
کیا جس نے پیدا ہمیں اسی کی طرف ہی کوچ بھی کرنا ہے
گھڑی آخری گنی جانے پر ہی حقیقی رب کا وصال ہے
رہیں احتیاط سے دوستوں، کبھی چُوکنا نہیں آپ کو
کسی کو اگر نہ ملے خطا، تو کسی کی کیا جو مجال ہے
رہے نقدی جیب میں ساتھ آئے ناصؔر تبھی تو سارے مگر
برے وقت کوئی نہ ساتھ دیں، بڑا ہی بنے برا حال ہے

0
21