صبح و مساء و شام و سحر حق کے ساتھ ہے
دامادِ حیدر آٹھ پہر حق کے ساتھ ہے
اعزاز اس نے پایا مرادِ رسول کا
خَطّاب کا دلارا پسر حق کے ساتھ ہے
شاہد ہیں میری بات کے حق آشنا تمام
حق ساتھ ہے عمر کے ، عمر حق کے ساتھ ہے
باطل کے ساتھ بیٹھ کے ایمان مت گنوا
فاروقیوں میں بیٹھ اگر حق کے ساتھ ہے
چیدہ چنیدہ لوگ ہیں فاروق کی طرف
ہر شخص اس جہاں میں کدھر حق کے ساتھ ہے
غیروں کے پاس دنیوی آسائشیں سہی
دیکھو عمر کی شان ، مگر حق کے ساتھ ہے
کعبے میں تیغ تھامے چلے آئے ہیں عمر
ڈرتا نہیں کبھی جو بشر حق کے ساتھ ہے
قرآن میں ہے بارہا قولِ عمر پہ صاد
قرآں کی ایک ایک سطر حق کے ساتھ ہے
نعرہ لگا کے بول! ہوں بو حفص کا غلام
اے دوست کوئی خوف نہ کر ، حق کے ساتھ ہے
جو آنکھ نم نہیں ہے ، نجانے ہے کس کے ساتھ
بہرِ عمر ہے آنکھ جو تر ، حق کے ساتھ ہے
پہلوئے مصطفیٰ میں ہے وہ تاج دارِ عدل
اور جانتے ہیں اہلِ نظر حق کے ساتھ ہے
مدحِ عمر کی ملتی ہے توفیق بس اسے
جس کا کلام اور ہنر حق کے ساتھ ہے
پوچھے خدا جو حشر میں ، آسیؔ ہے کس کے ساتھ
کہہ دیں عمر، الٰہی! قمرؔ حق کے ساتھ ہے
قمرآسیؔ

0
4