مضطرب دل ہے، پریشاں ہوں،جگر ہے زخمی
تیز دھڑکن ہے مری سانس ہے سہمی سہمی
ملتِ ختمِ رُسلؐ کیسے سہارا پاۓ
اب ہے اسلام روایاتی مسلماں رسمی
بزمِ فاروقؔ و علیؔ خالدؔ و ضرّارؔ نہیں
رزم گاہیں بھی نہیں اور نہ مومن رزمی
ہاۓ، وہ ارضِ مقدس کہ جہاں پہلے کبھی
نوجواں سیف و قلم لیس ، تھے رزمی، بزمی
اپنے جذبات کو لفظوں میں بیاں کیسے کرے
اپنی آہوں کو لکھے کیسے یہ شاعر ،عجمی
قلبِ نومید کو طفلانہ ہی امید سہی
زندہ ہو دہر میں پھر دینِ رسولِ اُمّیؐ
گرچہ آتش کدۂ دیں میں نہیں سوز و تبش
اب بھی باقی ہے مسلماں کے لہو میں گرمی

1
6
. *اب ہے اسلام روایاتی مسلماں رسمی*
. "فیفا ورلڈ کپ"
گہوارۂ اسلام میں شرمندہ شریعتِ محمدیﷺ ،دین و ایمان کے تئیں روز افزوں مرکزِ اسلام ( سعودی عرب) کی بگڑتی حالت اور اسی بیچ "قطر" کا اسلامی غیرت و حمیت کا مظاہرہ،(ادنی ہی سہی، قلبِ نومید کو طفلانہ ہی امید سہی) مگر کس قدر دل آویز اور کم آمیز ہے
آتش کدۂ دیں ( سعودی عرب ) کی سوز و تپش کی سردی اور "قطری" مسلمانوں کے لہو کی گرمی
.*ایک شاعر کی زبانی،ملتِ مرحوم ؐ کی کہانی*

. رسمی مسلمانؔ